Basically Journalist, Crypto Analysis and latest Updates. Helping with the mass adoption by educating one person at a time. Reaserch in International Relations.
Disclaimer: My analysis is for educational purposes only, not financial advice. Always trade with proper risk management and use stop-loss orders in volatile markets.
In my analysis of the monthly chart, this floor has acted as a launchpad for significant rebounds on two major occasions:
• January 2023: $ADA bounced off $0.25, resulting in a 88.27% rally over the following weeks. • September 2023: This level held as firm support once again, sparking a surge that eventually led to a 243% price increase.
Today, Cardano is bouncing off this $0.25 support once again. To me, this suggests a major structural rally could be brewing.
As long as we hold this floor, I’m targeting a move back to $0.36, with a secondary macro target at $0.53. However, if we fail to hold $0.25, it would signal a deeper regime change and open the door for a more significant correction.
آج کرپٹو مارکیٹ کے لیے دو خبریں بہت اہم ہیں اور دونوں کو ایک ساتھ سمجھنا ضروری ہے کیونکہ یہ مستقبل میں مارکیٹ کی سمت پر بڑا اثر ڈال سکتی ہیں۔
پہلی خبر یہ ہے کہ امریکہ کی سینیٹ بینکنگ کمیٹی نے کرپٹو کلیرٹی ایکٹ پر ووٹنگ کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ اب کرپٹو مارکیٹ کو مکمل نظر انداز کرنے کے بجائے اس کے لیے واضح قوانین اور فریم ورک بنانے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ پچھلے کئی سالوں سے کرپٹو مارکیٹ کا ایک بڑا مسئلہ یہی تھا کہ قوانین واضح نہیں تھے، جس کی وجہ سے بڑی کمپنیاں اور ادارے مکمل اعتماد کے ساتھ اس مارکیٹ میں داخل نہیں ہو رہے تھے۔ اگر آنے والے وقت میں قانون سازی مثبت انداز میں آگے بڑھتی ہے تو بٹ کوائن سمیت کئی مضبوط کوائنز کے لیے یہ ایک اچھا اشارہ ہو سکتا ہے کیونکہ بڑے ادارے ہمیشہ ایسی مارکیٹ میں آتے ہیں جہاں قوانین اور سسٹم واضح ہوں۔
دوسری خبر امریکہ کے بڑھتے ہوئے کریڈٹ کارڈ قرض کے بارے میں ہے جو اب تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ یہ خبر صرف امریکہ نہیں بلکہ پوری عالمی معیشت کے لیے ایک اہم اشارہ ہے۔ جب عوام قرضوں میں دبنے لگیں، مہنگائی بڑھے اور مالی دباؤ زیادہ ہو تو لوگ روایتی مالی نظام پر سوال اٹھانا شروع کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے دنیا بھر میں بہت سے لوگ اب بٹ کوائن اور دیگر ڈیجیٹل اثاثوں کو متبادل نظام کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
اگر ان دونوں خبروں کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو ایک طرف کرپٹو کے لیے ریگولیٹری راستہ صاف ہونے کی بات ہو رہی ہے جبکہ دوسری طرف روایتی مالی نظام کے مسائل مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آنے والے مہینوں میں کرپٹو مارکیٹ میں بڑی موومنٹس اور تیزی دیکھنے کو مل سکتی ہے، لیکن ہمیشہ یاد رکھیں کہ مارکیٹ میں بغیر انالسز اور رسک مینجمنٹ کے انٹری لینا خطرناک ہو سکتا ہے۔
**وال اسٹریٹ پر S&P 500 کال آپشنز کے حجم میں تاریخی اضافہ، بٹ کوائن کے لیے مثبت اشارے**
وال اسٹریٹ کی مالیاتی مارکیٹ میں ایک بڑا بریک تھرو سامنے آیا ہے جہاں S&P 500 کے کال آپشنز کا حجم 2.6 ٹریلین ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ کے اس غیر معمولی رجحان کا بٹ کوائن اور مجموعی کرپٹو مارکیٹ پر گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔ عام طور پر جب ٹریڈرز اسٹاک مارکیٹ میں کال آپشنز کی طرف مائل ہوتے ہیں، تو اسے ایک Bullish سگنل سمجھا جاتا ہے، جس سے بٹ کوائن جیسی ڈیجیٹل اثاثوں کی طلب میں بھی اضافہ متوقع ہے۔
تاہم، اس صورتحال میں مارکیٹ کی Volatility کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ کرپٹو مارکیٹ میں Short Term کے لیے تیزی آ سکتی ہے، لیکن سرمایہ کاروں کو محتاط رہنا چاہیے کیونکہ اتار چڑھاؤ کی وجہ سے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ اگر یہ رجحان برقرار رہتا ہے تو Long Term میں کرپٹو مارکیٹ میں مزید سرمایہ کاری دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق، موجودہ فائنانس مارکیٹ کی صورتحال بٹ کوائن کی قیمتوں میں استحکام یا اضافے کا سبب بن سکتی ہے، بشرطیکہ سرمایہ کار درست حکمت عملی اور انالیسس کا استعمال کریں۔ $BTC
بٹ کوائن کی مارکیٹ میں اس وقت ایک مضبوط بحالی دیکھی جا رہی ہے، تاہم ماہرین محتاط سرمایہ کاری کا مشورہ دے رہے ہیں۔ 90 دن کے مڈ ٹرم میں مارکیٹ ایک واضح اپ ٹرینڈ میں ہے جہاں قیمت میں 15.47% اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اور موونگ ایوریج (HMA) بھی لانگ ٹرم میں استحکام اور بڑھوتری کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ شارٹ ٹرم میں گزشتہ 7 دنوں کے دوران کچھ اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے، جہاں RSI 61.27 کے قریب ہے اور بولینجر بینڈز کے مطابق قیمت اوور بائٹ زون کے قریب ہو سکتی ہے۔
تکنیکی اینالائسس کے مطابق، بٹ کوائن کے لیے 80,000 ڈالر کی سطح ایک اہم نفسیاتی سپورٹ بن چکی ہے، جبکہ اہم ریزسٹنس 81,447 ڈالر سے اوپر کی وسیع رینج میں موجود ہے۔ مارکیٹ کا سینٹیمنٹ فی الحال نیوٹرل ہے کیونکہ فیئر اینڈ گریڈ انڈیکس 47 پر موجود ہے۔ اگرچہ ETF میں سرمایہ کاری اور ریگولیٹری وضاحت جیسی خبریں مارکیٹ کے لیے بلش ثابت ہو سکتی ہیں، لیکن اوپن انٹرسٹ میں کمی کی وجہ سے شارٹ ٹرم میں معمولی اصلاح (Correction) کا امکان موجود ہے۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ ہے کہ وہ لانگ ٹرم اور مڈ ٹرم کی مضبوطی کو مدنظر رکھتے ہوئے محتاط اور دانشمندانہ فیصلے کریں۔ $BTC