انسان اپنے آپ کے مشاہدے، اپنے تجربات اور اپنی being میں ایک پیچیدہ مخلوق ہے جو عقل، شعور، روح، جذبات، مستی اور احساسات پر مبنی ہے، لیکن دوسروں کے لیے آپ یا تو successful ہیں یا ایک failure۔ آپ یا تو اچھے ہیں یا برے، آپ یا تو funny one ہیں یا سنجیدہ شخصیت کے مالک ہیں، اور یا بدتمیز ہیں یا مہربان۔ یہ اور اس طرح کے کئی labels آپ کے ساتھ جوڑ دیے جاتے ہیں جو آپ کی شخصیت کا ایک وصف یا ایک خامی تو ہو سکتے ہیں، لیکن مکمل شخصیت نہیں ہو سکتے۔

اسی کیفیت کو بیان کیا ہے سارتر نے “Hell is other(s)” کہہ کر۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ دوسروں کو برا یا evil کہہ رہے ہیں، بلکہ یہ کہ انسان اپنی being میں اتنا complex ہے کہ وہ خود کو مکمل طور پر بیان نہیں کر پاتا، اور دوسرے ہمیں دیکھنے کے لیے بآسانی ایک عینک لگا لیتے ہیں۔ پھر ہمارا غم، خوشی، ہمارے جذبات اور احساسات سب ایک طرف رہ جاتے ہیں، جو مجھے “میں” بناتے ہیں، اور میری شخصیت کی پہچان چند labels کے ساتھ جوڑ دی جاتی ہے۔

مسئلہ وہاں شروع ہوتا ہے جب ہم بھی اپنے آپ کو دوسروں کی perception یا دوسروں کے نظریے سے دیکھنا شروع کر دیتے ہیں، یعنی ہم دوسروں کے نقطۂ نظر کے قیدی بن جاتے ہیں۔ کہانی ہماری ہوتی ہے لیکن مفہوم کوئی اور دے رہا ہوتا ہے۔ پھر آپ بدلنا بھی چاہیں، اپنے آپ کو بہتر کرنا چاہیں، تو بار بار آپ کے ماضی کو آپ کے سامنے لا کر رکھ دیا جاتا ہے کہ بھائی آپ تو یہ ہیں، آپ تبدیل نہیں ہو سکتے، آپ کی پہچان یہی رہے گی۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جو آپ کو کہنے پر مجبور کرتا ہے کہ “Hell is other(s)” — دوسرا جہنم ہے۔$BTC

BTC
BTCUSDT
93,035
-2.24%

$SOL

SOL
SOLUSDT
133.79
-6.07%

$ETH

ETH
ETHUSDT
3,209.96
-3.28%

#WriteToEarnUpgrade #MarketRebound #BTC100kNext?