بٹ کوائن مارکیٹ ایک بار پھر دلچسپ موڑ پر کھڑی ہے۔ حالیہ دنوں میں جب بٹ کوائن کی قیمت تقریباً 58,188 ڈالر تک گر گئی، تو مارکیٹ میں دو مختلف رجحانات دیکھنے کو ملے۔

ایک طرف بڑے سرمایہ کار، جنہیں Bitcoin Whales کہا جاتا ہے، انہوں نے صرف دو ہفتوں میں تقریباً 270,000 BTC خرید لیے، جن کی مالیت تقریباً 16.7 ارب ڈالر بنتی ہے۔

دوسری طرف، Bitcoin Spot ETFs سے مئی اور جون کے دوران تقریباً 7 ارب ڈالر نکل گئے۔ صرف جون میں ہی 4.51 ارب ڈالر کا نیٹ آؤٹ فلو ریکارڈ کیا گیا، جو اب تک کا سب سے بڑا ماہانہ آؤٹ فلو ہے۔

یہ صورتحال ایک اہم سوال پیدا کرتی ہے: آخر مارکیٹ کا صحیح رخ کون سمجھ رہا ہے؟

وہیلز کا ماننا ہے کہ موجودہ قیمتیں خریداری کے لیے بہترین موقع ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی بڑی تعداد میں وہیلز خوف کے ماحول میں خریداری کرتی ہیں، اکثر اس کے بعد بٹ کوائن میں مضبوط ریکوری دیکھی گئی ہے۔

دوسری جانب ETF سرمایہ کار محتاط نظر آ رہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، شرح سود میں ممکنہ اضافہ اور عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال نے کئی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو اپنی سرمایہ کاری کم کرنے پر مجبور کیا۔

اب سرمایہ کاروں کی نظریں چند اہم چیزوں پر ہیں، جیسے ETF فنڈز کا دوبارہ آنا، وہیلز کی مزید خریداری، فیوچر مارکیٹ کی پوزیشنز اور ایکسچینجز پر موجود بٹ کوائن کی مقدار۔

اگر ETFs میں دوبارہ سرمایہ آنا شروع ہو گیا اور وہیلز نے خریداری جاری رکھی تو بٹ کوائن میں مضبوط تیزی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ لیکن اگر ETF سے مسلسل رقم نکلتی رہی تو مارکیٹ پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔

فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ کون درست ثابت ہوگا، لیکن آنے والے چند ہفتے بٹ کوائن کی سمت کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون صرف معلومات فراہم کرنے کے لیے ہے، اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ سرمایہ کاری سے پہلے اپنی تحقیق ضرور کریں۔

#SICryptoNews #bitcoin #ETFvsBTC